ابنا: گذشتہ ہفتے بدھہ کے روز بھی جنرل جان ایلن نے شہر راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات کی تھی ۔ حکومت پاکستان نے گذشتہ سال نومبرسے، جب سے نیٹو نے پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے نیٹو سپلائی بند کررکھی ہے جس پر وہائٹ ہاؤس بوکھلایا ہوا ہے اسلئے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی ضروریات پوری کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
حکومت امریکہ نے نیٹو سپلائی بند رکھنے پر مبنی پاکستان کا فیصلہ تبدیل کرانے کیلئے ایک ہی وقت میں اسلام آباد کے ساتھہ مذاکرات اور اس پر دباؤ کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔ پاکستان کے سیاسی و فوجی حکام کے ساتھہ امریکی حکام کے وسیع پیمانے پر صلاح و مشورے ۔ اسلام آباد کے خلاف واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے الزامات اور قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں میں شّدت جیسے اقدامات امریکہ کی دو رخی پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ جنرل جان ایلن نے ایک ہفتے کے اندر اندر دوسری بار پاکستان کا یہ دورہ، ایسی حالت میں کیا ہے کہ دو ہفتے قبل امریکی نائب وزیر دفاع کا دورۂ پاکستان اور نیٹو سپلائي بحالی کیلئے ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے ۔
اپنے دورۂ افغانستان میں امریکی وزیر دفاع کا یہ دھمکی آمیز بیان کہ قبائلی علاقوں میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے میں پاکستان کے منفی طرز عمل پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے اور اسی طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے تیزتر کئے جانے کے بارے میں امریکی صدر بارک اوبامہ کی براہ راست ہدایات،اسلام آباد کے خلاف واشنگٹن کے سیاسی و فوجی دباؤ کی پالیسی مزید سخت ہوجانے کی ترجمان ہیں ۔ نیٹو سپلائی کی بحالی بند رکھنے کے بارے میں پاکستان کا جاری موقف بھی اس بات کا آئینہ دار ہے کہ پاکستان، امریکہ سے اپنے مطالبات منوانے کے عزم پر قائم ہے ۔ پاکستان نے نیٹو حملے پر معافی اور ڈرون حملے بند کئے جانے کو نیٹو سپلائی کی بحالی سے مشروط قرار دیا ہے ۔ چنانچے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اسی طرح جنگ افغانستان میں پاکستان کی اسٹریٹیجیک پوزیشن کے پیش نظر اگر امریکہ دہشتگردی کے خلاف اپنی منظور نظر مہم میں اسلام آباد کا تعاون حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے خلاف دباؤ اور تحکمانہ پالیسیوں سے باز آنا اور اعتماد کی بحالی کے دائرے میں تعاون کیلئے اس ملک کو رضامند کرنا ہوگا ۔.......
/169